نئی دہلی،5؍جون (ایس او نیوز؍یو این آئی) سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم ایرسیل میکسس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے سامنے آج پیش ہوئے ۔اس معاملے میں چدمبرم کو دہلی کی ایک عدالت نے راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر آئندہ 10؍جولائی تک کے لئے روک لگادی ہے۔ ا ی ڈی کے ذرائع نے بتایا کہ3,500؍کروڑ روپے کے ایر سیل میکسس سودے میں مسٹر چدمبرم کے رول کے سلسلے میں ایجنسی ان سے پوچھ گچھ کررہی ہے ۔ ایجنسی نے چدمبرم کا بیان درج کیا کیوں کہ اس سودے کو اس وقت منظوری ملی تھی جب وہ وزیر خزانہ تھے۔ ای ڈی کے مطابق چدمبرم نے اپنے وزارت خزانہ کے دور ان مارچ2006ء میں غیر ملکی سرمایہ کاری پروموشن بورڈ کے ذریعہ گلوبل کمیونیکیشن ہولڈنگ سرویس لمیٹڈ کو ایر سیل میں سرمایہ کاری کی منظوری دی تھی ۔ ایجنسی کے مطابق سابق مرکزی وزیر صرف 600؍ کروڑ روپے تک کے پروجیکٹوں کو منظور کرنے کے اہل تھے اور اس سے زیادہ رقم کے پروجیکٹوں کے لئے اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی کی منظوری کی ضرور ت تھی۔ چدمبرم پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایر سیل میکسس کو ایف ڈی آئی کے سفارش کے لئے اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی کو نظر انداز کردیا تھا ۔ ای ڈی کے مطابق ایر سیل میکسس ڈیل میں اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کابینہ کمیٹی کی اجازت کے بغیر ہی منظوری دی تھی ۔ جب کہ یہ سودا 3,500؍کروڑ روپے کا تھا۔ مسٹر چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم نے اس جانچ کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرا ردیا ہے۔